Hamari Azadi By abdul Kalam Azad

Monday, March 31, 2014

Hamari Azadi By abdul Kalam Azad

Abul Kalam Muhiyuddin Ahmed Azad  (11 November 1888 – twenty two Gregorian calendar month 1958) was an Indian scholar and a senior leader of the Indian independence movement. Following India's independence, he became the primary Minister of Education within the Indian government. In 1992 he was posthumously awarded India's highest civilian award, the Asian country Ratna. there's conjointly a theory that suggests that earlier once he was offered Asian country Ratna he promptly declined it locution that it mustn't incline to those that are on the choice committee. Later he was awarded posthumously in 1992. he's usually remembered as Maulana Azad; the word Maulana is AN honorific that means 'learned man', and he had adopted Azad (Free) as his pseudonym. His contribution to establishing the education foundation in India(Bharat)Asian country Asian nation is recognised by celebrating his birthday as "National Education Day" across India.


OR


Afghanistan Par Keya Guzri by Tariq Ismail Sagar

Wednesday, March 26, 2014

Afghanistan Par Keya Guzri by Tariq Ismail Sagar

Download or scan on-line free Urdu book "Afghanistan Par Kia Guzri?"(What happened with Afghanistan), authored by Tariq Ismail Sagar UN agency is that the author of over sixty books, and a renowned Urdu writer, fiction author, playwright and journalist. he's conjointly a current affairs specialist. This book is concerning true of Afghanistan when 9/11, but the author has conjointly written the previous history of Afghan military force and Taleban. The author has deeply discovered and investigated the 9/11 incident by his own purpose of read. equally the author has conjointly mentioned concerning the policy of Pakistan concerning Afghanistan۔ The author has conjointly criticized United States intelligence agency, exposed the forces behind the 'Peshawar Agreement'. Mr. Tariq Ismail has conjointly narrated concerning the conspiracy of Iran concerning Afghanistan. you must transfer this free book or scan on-line, as a result of the author has mentioned terribly attention-grabbing topics like, the key conferences and  Usama bin Laden, the emergence of Taleban, the meeting between Muhammadan Umar and  Usama bin Laden, international conspiracies and Usama etc.



OR

لنڈے کے انگریزوں کا سوال

Tuesday, March 25, 2014


  ہمارے لنڈے کے انگریزوں یعنی دیسی لبرلز جیسا کہ یہ پیج "روشنی" جو اصل میں تاریکی ہے، کا مسئلہ یہ ہے کہ نہ انھیں یہ پتا ہے کہ اسلام کیا ہے اور نا وہ شریعت سے واقف ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ دوکان سے ایک قرآن خرید کر جزدان میں لپیٹ کر رکھ دینا اسلام ہے اور اس سے ساری کی ساری ترقی ہو جائے گی، جبکہ ایسا ہے نہیں۔ اسلام نے ایسا کچھ نہیں سکھایا۔
جب اسلام اور شریعت کے جاننے والے یہ کہتے ہیں کہ ترقی نہ کرنے کی وجہ دین سے دوری ہے تو اس میں حقیقت ہے، جہاں تک اس لنڈے کے انگریز "روشنی" کے سوال کا تعلق ہے کہ امریکہ یورپ ور جاپان نے کونسے دین پر عمل پیرا ہو کر ترقی کی ہے تو میں چند ایک بتا دیتا ہوں۔

پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ دین دو طرح کی کامیابیاں دکھاتا ہے، جیسا کہ ہم نماز میں دعا بھی کرتے ہیں۔

ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار
اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا
سورة البقرة 201

دو طرح کی کامیابی
١) دنیا کی
٢) آخرت کی

اب قرآن دونوں کامیابیوں کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی بتاتا ہے،  جہاں تک آخرت کی کامیابی کی بات ہے تو قرآن اس پر واضح بتاتا ہے کہ اس کے لیے ایمان پہلی شرط، اور دوسری عمل صالحات ہیں.... جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کامیابی امریکہ،   یورپ اور جاپان نے حاصل نہیں کی۔ تو آتے ہیں دوسری یعنی دنیاوی کامیابی کی طرف جو امریکہ و یورپ حاصل کر چکا ہے۔

اسلام کی تعلیمات ہیں کہ

وأن ليس للإنسان إلا ما سعى
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
سورة النجم 39

یہاں مسلمان کا ذکر نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے دین یہ سکھا رہا ہے کہ جو کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو، اس کے لیے کوشش کرو، گھر بیٹھ کر باتیں بنانے سے نہیں ملے گی۔ اس کارگاہ دنیا میں انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش اور محنت و مشقت پر ہے۔

امریکہ، یورپ اور جاپان نے دین کے اس حکم پر جانے انجانے میں عمل کیا اور کامیابی حاصل کر لی جبکہ ہم نے عمل نہیں کیا تو کامیابی بھی نہیں ملی۔
دین نے کہیں بھی یہ نہیں کہ کہا جو مسلمان نہیں وہ دنیاوی ترقی نہیں کرے گا۔ ہاں آخرت کی کامیابی کے لیے مسلمان ہونے کی شرط رکھی ہے۔ دین یہ بتاتا ہے کہ کافر کا رزق صرف اس کے کافر ہونے کی وجہ سے بند نہیں کیا جائے گا۔

اسی طرح دین ہمیں علم حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے، امریکہ و یورپ نے دین کے اس حکم پر عمل کیا (چاہے دین سمجھ کر نا کیا ہو) تو کامیاب ہوئے، ہم نے نہیں کیا تو نقصان اٹھایا۔

اسی طرح جھوٹ ، فریب، دھوکہ بازی، حرص و طمع، حسد و بے ایمانی، بغض و کینہ، فخر و غرور ، خود بینی و خود نمائی اور خود رائی وغیرہ بہت سے اندرونی امراض ہیں، جن کا تعلق انسان کے دل و دماغ سے ہے، جن کا قرآن نے خصوصیت سے تذکرہ کیا ہے اوران کی اصلاح پر زور دیا ہے۔ ہم نے عمل نہیں کیا اور دین و شریعت کے اس احکامات کو امریکہ ، جاپان نے اپنایا تو ترقی کی۔

ان الله لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بأنفسھم وإذا أراد الله بقوم سواءً ا فلا مرد لہ ومالھم من دونہ من وال
بے شک الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب الله کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور الله کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہو سکتا
سورة رعد:11

دین کے اسی پیغام کو اقبال نے یوں بیان کیا ہے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

باتیں تو اور بہت سی ہیں پر کمنٹ لمبا ہو رہا ہے اس لیے ختم کرتا ہوں،
میں نے چند ایک شرعی احکام بتائے ہیں جو دنیاوی ترقی کے لیے ضروری ہیں، اور جن پر امریکہ یورپ اور جاپان نے عمل کر کے کامیابی حاصل کی۔ یاد رکھیے کہ یہ کامیابی کا صرف ایک حصہ ہے، دین انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی بیک وقت کامیابی کا طریقہ بتاتا ہے۔ یہ دنیاوی کامیابی بدلتی رہتی ہے، دنیا نے قدیم مصری تہذیب سے لے کر روم اور ایران جیسی عظیم سلطنتیں دیکھی اور پھر ریزہ ریزہ ہوتے دیکھی ہیں۔ تاریخ نے وہ ایام بھی دیکھے ہیں جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور مسلمان دنیا کو علم اور ٹیکنالوجی سے منور کر رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب یورپ سائنس کے لفظ بھی آگاہ نہ تھا اور پورے کا پورا یورپ کیچڑ کا ڈپو تھا۔ اس وقت نہ ان کے یہاں روڈ تھے اور نا تعلیمی ادارے اگر رات کے وقت کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا تو اپنی ہی غلاظت میں ڈوبا جاتا۔یہ وہ وقت تھا جب اسلامی ممالک میں علم کی ضیاء بکھر رہی تھی۔

اس لیے اس کامیابی کو ہمیشہ کی مت جانیے، قوموں کی زندگی میں عروج اور زوال آتے رہتے ہیں، کل ہم آگے تھے، آج وہ آگے ہیں، کل دوبارہ ہم آگے ہوں گے ان شا الله، کار دنیا اسی طرح چل رہا ہے۔

ایک اور بات کہ آپ کا سوال حماقت کے ساتھ ساتھ جہالت بھی ہے،آپ نے اپنی پوسٹ میں ہماری امریکہ و یورپ کے مقابلے میں پسماندگی پر چوٹ کی ہے
۔   اگر آج ہم نے ترقی نہیں  کی تو  اس کی سب سے بڑی وجہ آپ جیسےلنڈے کے انگریز یعنی  سیکولر حکمران ہی ہیں، جب سے پاکستان بنا ہےاس پر سیکولر حکمران ہی مسلط ہیں، جو  ہماری پسماندگی  کی سب سے بڑی  وجہ ہیں۔ جب یہاں اسلام اور شریعت نافذ ہے ہی نہیں تو آپ ہماری پسماندگی کو اسلام سے کیسے جوڑ سکتے ہیں، یہ ناکامی اسلام کی نہیں بلکہ سیکولر حکمرانوں کی ہے۔


امید ہے کہ اس جہل کے علمبردار کے سوال سے جو شکوک دین کے خلاف پیدا ہوئے ہیں وہ رفع ہو گئے ہوں گے، اگر کوئی سوال باقی ہو تو پوچھ سکتے ہیں۔

شہزادوں کی عید


عید الفطر کی چاندنی رات تھی، ہر سو خوشیاں بکھر رہی تھیں ، گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں ، ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا،  روزہ دار خدا کا شکر ادا کررہے تھے، کہ انہیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ، بچے صبح عید کا انتظا رکر رہے تھے، ان کے چہرے خوشی وشادمانی سے دمک رہے تھے، ابھی سے صبح عید کے لیے نئے نئے کپڑوں کو ترتیب دیا جارہا تھا، محلہ میں خوشی ومسرت کا ایک شور تھا، شہر دمشق روشنیوں سے جگ مگا رہا تھا، ہر دکان ومکان مسرت وشادمانی کا گہوارہ بنا ہوا تھا، کہ ایسے میں امیر المومنین اور مسلمانوں کے بادشاہ کا معصوم وخوب صورت بچہ دوڑتا ہوا حرم سرا میں آیا اور اپنی ماں سے لپٹ کر، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

ماں اس خوشی کے موقع پر اپنے لخت جگر کو اس طرح روتا دیکھ کر تڑپ اٹھی ، گھبرائے ہوئے اپنے آنچل سے بیٹے کے آنسو پونچھے اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے گویا ہوئیں”میرے پیارے بیٹے، میری آنکھوں کے نور! کیوں روتے جارہے ہو ؟“

لیکن بچہ مسلسل روتا جاتا ہے ، ماں پوچھتی ہے ” کیا کوئی تکلیف ہے؟“

شہزادہ روتے ہوئے کہتا ہے ”نہیں“ ۔

کسی نے مارا ہے؟

”نہیں“

”تو پھر کیوں روتے ہو؟“ ماں پیار سے بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اور تسلی دیتے ہوئے کہتی ہے ” دیکھو! آج تو خوشی کا دن ہے کل عید المبارک ہے، تم اپنے ابا امیر المومنین کے ساتھ عید گاہ جاؤ گے ، اپنے ہم عمر دوستوں سے ملو گے۔“

ماں کا یہ جملہ سن کر بچہ او رپھوٹ پھوٹ کر روتا ہے، لیکن اس بار روتے ہوئے وہ کہتا ہے” امی جان! میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ کل عید کا دن ہے ، سب بچے اچھے اچھے اور نئے نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، لیکن آپ نے کہا ہے کہ ہمیں عید کے لیے یہی پرانے کپڑے دھلوا دیں گی۔ کیا ہم یہی پرانے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے ، نہیں امی جان! ہمیں بڑی شرم آئے گی ، ہم ابا کے ساتھ عید پڑھنے نہیں جائیں گے۔ “ اپنا دکھڑا بیان کرکے شہزادہ اور بلک بلک کر رونے لگا۔

اپنے نورِ نظر اور لخت جگر کویوں بلکتا دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں موتی چھلک آئے ، بیٹے کو اپنے گلے سے چمٹا لیا او ربڑے ضبط کے ساتھ کہا ”میرے لال یہ کون سی رونے کی بات ہے ؟ تم اپنے کو اس طرح ہلکان مت کرو، امیر المومنین کو گھر آنے دو، میں ان سے کہہ کر تمہارے لیے آج رات ہی نئے او راچھے کپڑے بنوا دوں گی ، تم انہیں پہن کراپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی خوشی سے کھیلنا ، اماں کی تسلی بھری خوش خبری سن کر شہزادے کی آنکھیں خوشی سے دمکنے لگیں اور وہ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے میری اچھی وپیاری امی کہہ کر اپنی ماں یعنی ملکہ عالیہ سے لپٹ گیا۔

تھوڑی دیر بعد امیر المومنین جب اُمور سلطنت سے فارغ ہو کر گھر تشریف لائے تو رفقیہ حیات اور ملکہ سلطنت بیٹے کی آرزو اور رونے کا ماجرا سناتے ہوئے بیٹے کی ترجمانی کے انداز میں گویا ہوئیں ” سب بچے کل عید کے دن نئے کپڑے پہنیں گے ۔ لیکن خلیفہ وقت کے فرزند پرانے کپڑے پہنیں گے ، کیا انہیں شرم نہیں آئے گی ان کی خوشی اداسی میں تبدیل نہیں ہو گی؟“

شہزادہ کی آواز اور ملکہ کی گفتگو سن کر امیر المومنین نے جواب دیا، فاطمہ! تمہیں تو معلوم ہے کہ میں دو درہم روزانہ کا مزدور ہوں ، اس قلیل رقم میں کھانے پینے کا گزارہ کرنا ہی مشکل ود شوار ہے ، چہ جائیکہ دیگر اخراجات“!

فاطمہ بولیں” لیکن بچے تو نہیں مانتے، وہ تو ضد کرتے ہیں کہ نئے کپڑے پہن کر عید گاہ جائیں گے، ورنہ نہیں ۔“

امیر المومنین نے کہا کہ ” اچھا ایسا کرو، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہو تو اسے فروخت کرکے بچوں کی ضد اور آرزو پوری کردو“ امیر المومنین کا جواب سن کر ملکہ وقت کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، بولیں ”یا امیر المومنین جس دن آپ تخت خلافت پر بیٹھے تھے، میرا تو ایک ایک زیور علیحدہ کرکے آپ نے بیت المال میں جمع کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ زیور غریب اور مسکین لوگوں کا حق ہے،
بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا ، بھلا اس کے بعد میرے پاس کیا جمع ہے اور آپ تو خود جانتے ہیں  کہ اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔“


بادشاہ وقت اپنی بیوی کی باتیں سن کر خاموش ہو گئے اور سر جھکا کر سوچتے رہے، پھر سر اٹھایا، چہرے پر ہلکی سی شادابی آئی ، خادم کے ذریعہ بیت المال کے نگران، یعنی وزیر خزانہ کو ایک حکم نام بھجوایا کہ ” ہمارا ایک ماہ کا حق خلافت ( تنخواہ) پیشگی بھیج دو“۔

تھوڑی دیر بعد خادم واپس آیا مگر اس کے ہاتھ میں رقم کے بجائے وزیر خزانہ کا جوابی خط تھا، خط کیا تھا؟ امیر المومنین کی نظریں تحریر میں گڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں، لکھا تھا ”امیر المومنین! آپ کا غلام آپ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے حاضر ہے، لیکن امیر المومنین آپ کو یہ کیوں کر یقین ہوا کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں اور جب یہ یقین نہیں کیا جاسکتا تو پھر غریبوں کے مال کا حق کیوں پیشگی اپنی گردن پر رکھتے ہیں؟!“

خط پڑھ کر امیر المومنین پر لرزہ طاری ہو گیا، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور کپکپاتی ہوئی آواز میں گویا ہوئے ” فاطمہ ! والله بیت المال کے وزیر خزانہ نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔“

دوسرے دن دمشق کے بازار رنگ ونور میں ڈوبے ہوئے عید کا حسین منظر پیش کر رہے تھے ، بوڑھے جوان اور بچے سب عمدہ لباس زیب تن کیے دو گانہ عید ادا کرنے عید گاہ کی طرف رواں دواں تھے، امیر المؤمنین، خلیفة المسلمین، حاکم وقت حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ پیادہ ہی عید گاہ تشریف لے جارہے تھے، گو کہ آپ کے بچوں نے نئے کپڑے نہیں پہنے ہوئے تھے، تاہم وہ خوش تھے ، ان کے چہرے روحانی مسرت اور صبر وشکر کی روشنی سے منور تھے، ان کی پیشانی ایمانی نور سے دمک رہی تھی۔

اس لیے کہ رات کو باپ نے انہیں سمجھایا تھا کہ جو بچے دنیا میں صبر وشکر کے ساتھ پرانے کپڑے پہن لیتے ہیں تو الله تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں نئے واعلیٰ کپڑے پہنائے گا، جو کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور وہ خوشی عطا کرے گا جو دائمی ہو گی، جسے نہ تو کوئی چھین سکے گا اور نہ ہی وہ غم میں تبدیل ہو گی ۔

  حالانکہ یہی عمر بن عبدالعزیز مسند خلافت پر متمکن ہونے سے قبل انتہائی تنعم وراحت کی زندگی بسر کرتے تھے ، جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کا موقع نہیں ملتا تھا، وہ جس راستے سے گزرتے خوشبوؤں سے معطر ہو جاتا، لیکن خلافت کابارِ گراں اٹھانے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو ابوہریرہ کے قالب میں ڈھال کر آنے والے تمام مسلم حکمرانوں کے لیے ایک زندہ وجاوید مثال قائم کر دی ، جب حکمران اتنا سادہ وخدا ترس ہو تو اس کی اولاد اور ماتحت کیوں نہ متقی وپرہیز گار بنے گی؟ یہ اصول ہے کہ ہر بلند چیز کا سایہ اس کے نیچے پڑتا ہے ، اگر حکمران مخلص، ایمان دار ، خدا ترس ، قانون کے پابند اور حقیقی خدا کے نائب بن جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے ماتحت بھی ایمانی وقرآنی صفات سے بھرپور نہ ہوں۔

مگر آج عالم یہ ہے ، خصوصاً اسلامی مملکت پاکستان کی صورت حال تو ہم سب پر آشکارا ہے کہ آج طویل مدت گذرنے کے بعدبھی اسلام کے نام پر حاصل کرنے والے ملک میں اسلام کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا جاتارہا ہے ،انتہا تو یہ کہ ہر آنے والے حکمران نے اپنے اقتدار کے طول او رکرسی کی حفاظت کے لیے اسلام ہی کو بازیچہ اطفال بنایا، اپنی ہر من مانی کو اسلام کا نام دے کر مسلمانوں اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی اسلام سے خوف زدہ کیا گیا ہے۔

یہ اسلام پر چلنے ہی کی برکت تھی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ کے دو رمیں شیر وبکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے تھے، مگر آج ایک ہی پلیٹ میں دو مسلمان ایک ساتھ کھانا کھانا گوارا نہیں کرتے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی الله عنہ اور ان جیسے دیگر مسلم حکمرانوں نے شاید ہی اپنی پوری زندگی اور دورِ حکومت میں اپنے اور اپنے خاندان پر اتنا خرچ کیا ہو گا، جتنا آج مسلم حکمران خصوصاً پاکستانی حکمران صرف اپنی ذات پر، عیش وعشرت کے کام پرایک دن  میں دولت خرچ کرتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ پہلے بیت المال کو عوام الناس کا حق سمجھا جاتا تھا، آج حکمران اسے اپنا ذاتی خزانہ سمجھتے ہیں۔


ایک تھکا دینے والا امتحان

Monday, March 24, 2014

 
 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔ کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔

ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟
بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟

بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، تو نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔


روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین-ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ
 

جیب اور جیب کترے

Friday, March 21, 2014


آپ نے اکثر عوامی ہوٹلوں میں یہ فقرہ لکھا ہوا دیکھا ہوگا کہ ’’اپنی جیب کی حفاظت کیجیے‘‘۔زیادہ محتاط لوگ یہ فقرہ دیکھتے ہی اس نصیحت پر شکر گزار ہوکر ہوٹل سے پلٹ آتے ہیں۔جو نہیں پلٹتے اور کچھ کھاپی بیٹھتے ہیں تو انھیں بل ادا کرتے وقت اس فقرے کی معنویت کا احساس ہوتا ہے۔ مگر۔۔۔ اب پچھتائے کا ہوت جب خود ہی چُگ گئے جیب۔جن ہوٹلوں کے پروپرائٹر صاحبان محتاط گاہکوں کی نفسیات سے واقف ہوتے ہیں، وہ اسی فقرے کو یوں لکھتے ہیں کہ ’جیب کتروں سے ہوشیار رہیں‘۔سو گاہک بڑی ہوشیاری سے چوکنا بیٹھا اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا کھاتا پیتا رہتا ہے۔مگر جیب اُس کی بھی کاؤنٹر پر کتر لی جاتی ہے اور وہ دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔ سارا چوکنا پن وہاں پہنچ کر ہوا ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی جیب خالی اور چوکنا پن ختم کرکے کسی لدھڑ کی طرح بھاری بھاری قدم گھسیٹتا ہوا باہر نکلتاہے۔

جیب شاید ایجاد ہی اس لیے کی گئی ہے کہ وہ کتری جائے۔ صبح ہزار روپئے جیب میں ڈال کر نکلیے۔ شام کو واپس آئیں گے تو شاید اُس ہزار روپئے کی کچھ کترنیں ہی جیب میں بچی ہوں گی۔ دن بھر میں اچھی خاصی جیب کتری جاچکی ہوگی۔
 یہ روپیہ پیسہ بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ جب تک آپ کے پاس رہے گا، آپ ایک ایک چیز کو ترستے رہیں گے۔جب آپ کے پاس سے دفع ہو گا تو آپ کو کچھ ملے گا۔ پھر بھی لوگ جیب کی حفاظت جان سے زیادہ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک محافظِ جیب کو راستے میں لٹیروں نے آلیا۔بندوق دکھاکر بولے کہ: ’’بولو! جان دوگے یا پیسا؟‘‘
 انھوں نے گھگھیا کرکہا: 
’’بھائی میرے! جان لے لو۔پیسا تو آڑے وقتوں کے لیے بچا کر رکھا ہے‘‘۔ 
لٹیروں نے دیکھا کہ اُن کا داؤ خالی جا رہا ہے، کیوں کہ بندوق کی جیب بھی خالی ہے۔۔۔’گولی وولی کوئی نہیں اس میں‘۔۔۔تو ایک لٹیرے نے آگے بڑھ کر سمجھایا:
 ’’میاں! جان پر نہ کھیلو۔ جیب میں جتنے پیسے ہیں، نکال دو۔ بھلا اِس سے زیادہ آڑا وقت اور کب آئے گا؟‘‘ 

جان پر کھیلنے کا ایک سچا واقعہ بھی سن لیجیے۔ نیویارک کے اُس علاقے میں جو نیگرو لٹیروں کا گڑھ تھا، ہمارے صوبہ خیبر پختون خوا کے ایک مردِ کہستانی جانکلے۔ اُن گلیوں میں جانے والوں کو تجربہ کار لوگ یہ نصیحت کرکے بھیجا کرتے تھے کہ: 
’’ جیب میں ایک آدھ ڈالر ضرور ڈال لینا۔ اگر جیب سے کچھ نہ نکلے تو طیش میں آکر یہ کالے مار پیٹ پر اُتر آتے ہیں‘‘۔

پر ہمارے خان صاحب سے جب اُن کالوں نے جیب خالی کرنے کا مطالبہ کیا تو یہ خود طیش میں آکر مار پیٹ پر اُتر آئے۔ بلکہ کراچی والوں کی اصطلاح میں ۔۔۔ ’دے مار ساڑھے چار‘ ۔۔۔ مچا دی۔ پورے گینگ کو’ ہٹ ہٹ کے مارنا‘ شروع کردیا۔بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا۔ مگر کب تک کرتے؟ یہ اکیلے تھے وہ چار پانچ۔ بالآخر پٹ پٹا کر ہانپتے ہوئے کالوں نے کسی طرح ان پر قابوپا کرزمین پر لٹالیا۔جیب کی تلاشی لی تو فقط پچاس سینٹ برامد ہوئے۔مگر جتنی پٹائی ہوچکی تھی اُس کی ’معاشی قدر‘ یقیناًپچاس سینٹ سے ہزار گُنا زیادہ ہوگی۔ 
خیر، خان صاحب کی بہادری کی قدر کرتے ہوئے اُنھیں مع اُن کے پچاس سینٹ کے چھوڑ دیاگیا۔ مگر لٹیروں نے اپنے گینگ کے ممبروں کے نام ایک ’منہ زبانی‘ سرکلر جاری کردیا کہ: ’’آئندہ ان شلوار قمیض پہننے والے پاکستانیوں سے بالکل پنگا نہ لیا جائے۔یہ لوگ پچاس سینٹ کی خاطر بھی جان پر کھیل جاتے ہیں‘‘۔ لیکن اُنھیں کیا معلوم کہ یہ پچاس سینٹ کی بات نہ تھی۔ بات یہ تھی کہ ۔۔۔ ’غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں‘ ۔۔۔تاہم خان صاحب کی بدولت خاصے عرصے تک پاکستانیوں کو یہ ’استثنیٰ‘ حاصل رہا۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی بھائی ایک دوسرے کو یوں نصیحت کیا کرتے تھے:
 ’ ’اُس علاقے میں جاؤ تو شلوار قمیض پہن کر جاؤ‘‘۔ 
جیب کے معاملے میں ہر انسان بڑا حساس ہوتاہے۔اگر کوئی آپ کی جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے تو جیب میں کچھ نہ ہونے کے باوجود آپ گھبرا کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیں گے۔ہاسٹل کے زمانے کی بات ہے۔ایک تبلیغی دوست تمام ساتھیوں کو فجر کی نماز کے لیے جگانے آتے تھے۔ اُن کے آتے ہی، جو ساتھی جاگ رہے ہوتے تھے وہ بھی سوتے بن جاتے تھے۔ مگر یہ سب کی جیبوں میں ہاتھ ڈال ڈال کر گہری نیند سونے والوں کو بھی ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ حالاں کہ سوتے وقت بھلا جیب میں ہوتاہی کیا ہے؟ 
یوں تو آپ کی جیب آپ کے جانتے بوجھتے بھی کتر لی جاتی ہے، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بل آپ کی جیب میں ڈال کر۔ مگر جیب کتروں کی معروف قسم وہ ہوتی ہے جو بھیڑ بھاڑ میں آپ کی جیب اتنی مہارت سے کتر کر چل دیتے ہیں کہ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا۔ایسے ہی ایک جیب کترے کی ’جیب کتری‘ کا نہایت دلچسپ قصہ ریاض (سعودی عرب) سے ابوالخطاب محمد طاہر صدیقی نے بھیجا ہے، گیان پرکاش ویویک کے ایک مختصر افسانے کی صورت میں۔گیان پرکاش کا یہ افسانہ آپ بھی پڑھ لیجیے۔ لکھتے ہیں:

 بس سے اتر کر جیب میں ہاتھ ڈالا۔ میں چونک پڑا۔جیب کٹ چکی تھی۔ جیب میں تھا بھی کیا؟ کل نو روپئے اور ایک خط جو میں نے ماں کو لکھا تھا: 
’’میری نوکری چھوٹ گئی ہے، ابھی پیسے نہیں بھیج پاؤں گا‘‘۔
 تین دنوں سے وہ پوسٹ کارڈ جیب میں پڑا تھا، پوسٹ کرنے کی طبیعت نہیں ہو رہی تھی۔نو روپئے جاچکے تھے۔یوں نو روپئے کوئی بڑی رقم نہیں تھی۔۔۔ لیکن جس کی نوکری چھوٹ گئی ہواُس کے لیے نو سو سے کم بھی تو نہیں ہوتی ہے۔ 
کچھ دن گزرے ۔۔۔ ماں کا خط ملا۔پڑھنے سے پہلے میں سہم گیا۔ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہوگا۔لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا!ماں نے لکھا تھا: 
’’بیٹا! تیرا بھیجا پچاس روپئے کا منی آرڈر ملا۔تو کتنا اچھا ہے رے ۔۔۔ پیسے بھیجنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا‘‘۔ 
میں کافی دنوں تک اس اُدھیڑ بُن میں رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے؟ کچھ دن بعد ایک اور خط ملا۔ آڑی ترچھی لکھاوٹ۔بڑی مشکل سے پڑھ سکا:
 ’’بھائی نو روپئے تمھارے، اور اکتالیس روپئے اپنے ملا کر میں نے تمھاری ماں کو منی آرڈر بھیج دیا ہے۔فکر نہ کرنا، ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے نا! وہ کیوں بھوکی رہے؟ ۔۔۔ تمھارا جیب کترا‘‘۔ 

ابو نثر  

Descriptive Bukhari sharif in Urdu

This Islamic book is known as the absolute, most real gathering of Ahadith. The Islamic book Sahih Al-Bukhari blankets practically all parts of life in giving fitting direction from the delegate of ALLAH. This pdf of Bukhari is composed to better understand which is the work of over 16 years by Imam Bukhari who before composing any Hadith in this book performed two Rakat request to ALLAH of direction from Allah and when he was certain of the Hadith's genuineness, he kept in touch with it in the book. Huge measures of mistakes exist in the interpretations by different interpreters. To wipe out the Elementary issue Dar-us-Salam used over 3 years in the production of this book and introduced a book which is made as English in a simple & basic dialect, with the goal that all bookworms can comprehend it without insurance quotes.

Tafheem-ul-Bukhari-sharif-in-Urdu

Secret Mission Imran Series By Safdar Shaheen

Thursday, March 20, 2014

secret mission imran series
Secret mission novel contains a spy adventurous thriller action story is authored by safdar shaheen in urdu language with the size of 12 mb in pdf normal quality format.Use the mentioned below mediafire link to download secret mission imran series urdu novel pdf or read online book free.

Did you read another  adventure thriller spy novel of this author.Visit the following link to download or read online

Mobile Sim Ki Talash By Safdar Shaheen

Wardat Us Raat Ki Novel By Ahmed Yaar Khan

wardat us raat ki
Wardat us raat ki novel contains more than 50 short spy adventurous crime thriller stories is author by ahmed yaar khan in urdu language with the size 4 mb in pdf high quality format.Visit the mentioned below mediafire link to download or read online vardat us raat ki urdu novel pdf free or read online book.


Or


Did you read another spy novel of this author.Click the following link to download or read online

Bal Ek Churail Key By Ahmed Yaar Khan

Gulistan e Adab Ki Sunehri Yadain By A Hameed

gulistan adab ki sunehri yadain
Gulistan e adab ki sunehri yadain book contains the historic biography and short life story of different scholars, poets, authors, writers is authored by a hameed in urdu language with the size of 7 mb in pdf normal quality.Click on the below given mediafire link to download gulistan e adab ki sunehri yadein urdu pdf or read online free book.

Urdu Digest March 2014 Pdf Download

urdu march 2014 digest
Urdu digest for the month of march 2014 contains new urdu historic stories latest articles on health and diseases, cricket 2014 news, budhawa by m ilyas, top ten best agencies of world in urdu, 12 tips for sleepless peoples, inventions of 2013, article on lady Diana's surprised death, advantages of berries, treatment with aloe vera, home remedy for high blood pressure, informative article on boomerang knife and much more in urdu language.Visit the below link to download or read online pakistan urdu digest monthly march 2014 edition urdu pdf free.

Or

Pas e Aaina By Mirza Amjad Baig Advocate

pas e aaina
Pas e aaina novel contains 5 crime law and investigation social stories khar e hawas, lottery, aatish e zan, miss fit is authored by mirza amjad baig advocate in urdu language with the size of 4 mb in pdf high quality format.Click the following mediafire link to download pas e aaina urdu novel pdf or read online book free.


Or


Did you read another law and investigation novel of this author.Visit the following link to download or read online

 Aatish e Zar By Mirza Amjad Baig Advocate

Hadi e Alam By Muhammad Wali Razi

hadi e alam pdf
Hadi e alam book contains the seerat e mustafa s.a.w is authored by muhammad wali razi in urdu language with the size of 8 mb in pdf high quality format.Visit the below given mediafire link to download or read online hadi e alam islamic urdu pdf book free download.


Or


Did you read another book about seerat mustafa s.a.w.Visit the mentioned link to download or read online

Seerat e Mustafa PBUH By Muhammad Idrees Kandhalvi

Suspense Digest April 2014 Pdf Download

suspense april 2014
Suspense digest for the month of april 2014 contains new advneturous suspense mystery thriller urdu stories authored by most famous writers zair o zabar by ilyas sitapuri, pas e zindaan by tahir javed mughal, be khabar by kashif zubair, hisab e dushmana by malik safdar hayat, marvi by mohiuddin nawab with the size of 53 mb in pdf high quality format.Visit the mentioned below mediafire linto download pakistan urdu suspense digest monthly april 2014 edition urdu pdf or read online digest free.


Or

Khamiri Musalman By Bint e Adil

khamiri musalman
Khamiri musalman book contains the true islamic stories of two sisters is authored presented by bint e adil in urdu language with the size of 26 mb in pdf high quality format.Click on the mentioned below mediafire link to download khamiri musalman pdf urdu novel or read online book free.

Or

Raakh Novel By Wajiha Sahar

Wednesday, March 19, 2014

raakh wajiha sahar
Raakh novel contains a horror mysterious thriller story is authored by wajiha sahar in urdu language with the size of 1 mb in pdf high normal quality format.Click on the mentioned below dropbox link to download rakh urdu pdf novel wajida sahar horror book free.


Or

Shajar e Mamnua Novel By Mohiuddin Nawab

shajar e mamnua novel
Shajar e mamnua novel contains a social reforming and romantic story is authored by mohiuddin nawab in urdu language with the size of 5 mb in pdf high quality format.Visit the given below mediafire link to download shajar e mamnuwa urdu pdf free novel or read online book.


Did you read another adventurous crime novel of this author.Use the following link to download or read online

Adha Chehra By Mohiuddin Nawab

Hajjaj Bin Yousaf By Aslam Rahi M A

hajjaj bin yousaf aslam rahi
Hajjaj bin yousaf novel contains the historic life story and biography of al hijaj ibn yousaf al kulyab or thaqafi is authored by aslam rahi m a in urdu language with the pdf high quality format.Use the below given mediafire link to download or read online hajjaj bin yousaf urdu pdf book free.



Did you read another historic adventurous novel of this author.Visit the following link to download or read

Yaroshalam Ki Sahira By Aslam Rahi M A

Shama Ki Lo Taiz Karo By Riaz Roofi

shama ki lo taiz karo
Shama ki lo taiz karo book contains urdu romantic and sad poetry ghazal and poems is authored and written by riaz roofi in urdu language with the size of 7 mb in pdf normal quality format.Use the following mentioned dropbox link to download shama ki lo tez karo poetry pdf urdu book free.


Or

Putli Packing Ki Safarnama By Mustansar Hussain Tarar

putli packing ki
Putli packing ki book contains an adventurous journey story is authored by mustansar hussain tarar in urdu language with pdf high quality format.Click on the below mentioned mediafire link to download putli packing urdu safarnama pdf or read online free book.


Or


Did you read another journey novel of this author.Visit the following link to download or read online

Ratti Galli By Mustansar Hussain Tarar


Shauq e Awargi Safarnama By Ata ul Haq Qasmi

shauq e awargi
Shauq e awargi book contains an adventurous journey story is authored by ata ul haq qasmi in urdu language with pdf high quality format.Visit the below mentioned mediafire link to download shauq e awargi urdu pdf safarnama or read online book by clicking on view button.


Or

Jin Zadi Novel By Zaheer Ahmed

jin zadi zaheer ahmed
Jin zadi novel contains an adventurous mystery thriller action story of imran series is authored by zaheer ahmed in urdu language in pdf high quality format.Visit the mentioned below mediafire link to download or read online jin zadi asaibi dunya novel urdu pdf book free.

Did you read another adventurous action thriller novel of this author.Use the following link to download book or read online

Challenge Fight Imran Series By Zaheer Ahmed

Sultan Jalal ud Din Khwarazm By Muhammad Ismail Rehan

sultan jalaluddin khwarazm
 Sultan jalal ud din khwarazm book contains the historic biography and life story of Jalaluddin khwarazm shah is authored by maulana muhammad ismail rehan in urdu language with the size of 13 mb in pdf high quality format.Use the following dropbox link to download sultan jalal ud din khawarzam urdu pdf or read online book free.

وہ کہ جس نے قرآن کو چیلنج کیا

Tuesday, March 18, 2014


1977میں جناب گیری میلر (Gary Miller) جو ٹورنٹو یونیورسٹی میں ماہر علمِ ریاضی اور منطق کے لیکچرار ہیں ، اور کینڈا کے ایک سرگرم مبلغ ہیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ عیسائیت کی عظیم خدمت کرنے کے لئے قرآن ِمجید کی سائنسی اور تاریخی غلطیوں کو دنیا کے سامنے لائیں گے ، جو اس کےمبلغ پیرو کاروں کی مدد کرے تاکہ مسلمانوں کو عیسایئت کی طرف لایا جا سکے ۔

تاہم نتیجہ اس کے بالکل برعکس تھا میلر کی دستاویز جائز تھیں اور تشریح اور ملاحظات مثبت تھے ۔ مسلمانوں سے بھی اچھے جو وہ قرآنِ مجید کے متعلق دے سکتے تھے ۔ اس نے قرآنِ مجید کو بالکل ایسا ہی لیا جیسا ہونا چاہیئے تھا ،اور ان کا نتیجہ یہ تھا کہ:

یہ قرآنِ مجید کسی انسان کا کام نہیں۔

پروفیسر گیری میلر کے لئے بڑا مسئلہ قرآنِ مجید کی بہت سی آیات کی بناوٹ تھی جو اسے چیلنج کر رہی تھیں للکار رہی تھیں مثلاً:


أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا
بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے۔

سورۃ نمبر:4، النسآء، آیت نمبر82


وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو۔

سورۃ نمبر:2 ،البقرۃ،آیت نمبر:23


اگر چہ پروفیسر میلر شروع شروع میں للکار رہا تھا اور چیلنج کر رہا تھا ،مگر بعد میں اس کا یہ رویہ حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو گیا اور پھر اس نے بیان کیا کہ اس کو قرآن سے کیا ملا؟

مندرجہ ذیل کچھ نکات ہیں جو پروفیسر میلر کے لیکچر”حیرت انگیز قرآن“میں بیان کئے ہیں:

یہاں کوئی مصنف (لکھنے والا) ایسا نہیں ملے گا جو ایک کتاب لکھے اور پھر سب کو للکارے اور چیلنج کرے کہ یہ کتاب غلطیوں (اغلاط)سے پاک ہے۔قرآن کا معاملہ کچھ دوسرا ہے۔ یہ پڑھنے والے کو کہتا ہے کہ اس میں غلطیاں نہیں ہیں۔اور پھر تمام لوگوں کو چیلنج کرتا ہے کہ اگر تم کہتے ہو کہ اس میں غلطیاں ہیں اور تم اپنی اس بات پر سچے ہو تو ان غلطیاں تلاش کرکے دکھا دو۔یا تم سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کا کلام ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھا دو۔

قرآن مقدس ،نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ(ذاتی زندگی) کے سخت لمحات کا ذکر نہیں کرتا جیسا کہ آپ ﷺ کی رفیق حیات اور محبوب بیوی حضرت خدیجہ ؓاور آپﷺ کے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کی موت۔

نہایت ہی عجیب طرح سے اور عجیب طور پر وہ آیات مبارکہ جو کچھ ناکامیوں پر بطور رائے(تبصرہ) نازل کی گئیں وہ بھی کامیابی کا اعلان کرتی ہیں اور وہ آیات جو کامیابی ،فتح اور کامرانی کے وقت نازل ہوئیں ان میں بھی غرور و تکبر کے خلاف تنبیہ کی گئی ہیں۔

جب کوئی اپنی ذاتی زندگی (سوانح حیات/آپ بیتی) لکھتا ہے تو اپنی کامیابیوں (فتوحات) کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور اپنی ناکامیوں اور شکست کے متعلق دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے ، جبکہ قرآن مجید نے اس کے برعکس کیا جو یکساں اور منطقی ہے۔ یہ ایک خاص اور مقررہ وقت کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ ایک تحریر ہے جو اللہ(معبود) اور اللہ کے ماننے والوں ،عبادت کرنے والوں کے درمیان عام قسم کے قوانین اور تعلق کو پیدا کرتی ہے،وضع کرتی ہے۔

میلر نے ایک دوسری خاص آیت کے متعلق بھی بات کی :

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو جنون نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں۔

سورۃ نمبر: 34 ،سبآ، آیت نمبر:46

اس نے ان تجربات کی طرف اشارہ کیا جو ایک محقیق “اجتماعی بحث و مباحثہ کے اثرات ” پر ٹورنٹو یونیورسٹی میں کر چکا تھا ۔

محقق نے مختلف مقررین (تقریر اور بحث کرنے والوں) کو مختلف بحث و مباحثہ میں اکھٹا کیا اور ان کے نتائج میں موازنہ کیا ، اس نے یہ دریافت کیا کہ بحث و مباحثہ کی زیادہ تر طاقت اور کامیابی تب ملی جب مقرر تعداد میں 2 تھے ،جبکہ طاقت اور کامیابی کم تھی جب مقررین کی تعداد کم تھی۔

قرآن مجید میں ایک سورۃ حضرت مریم علیہ السلام کے نام پر بھی ہے۔اس سورۃ میں جس طرح ان کی تعریف اور مدح کی گئی ہے اس طرح تو انجیل مقدس میں بھی نہیں کی گئی،بلکہ کوئی بھی سورۃ حضرت عائشہ ؓیا حضرت فاطمہ ؓکے نام سے موجود نہیں۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کا اسم کرامی قرآنِ مجید میں 25 مرتبہ ،جبکہ محمد ﷺ کا اسم مبارک صرف 5 مرتبہ دہرایا گیا ہے۔

کچھ تنقید کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں (نعوذ باللہ)کہ جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ سب آسیب ، بھوت اور شیطان نبی اکرمﷺکو سکھاتے تھے، ہدایات دیاکرتے تھے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ قرآن مجید میں کچھ آیات ایسی بھی ہیں جیسے:

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ
اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے۔
سورۃ نمبر:26، الشعرآء، آیت نمبر:210

فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو۔


سورۃ نمبر:16، النحل، آیت نمبر:98

اگر آپ ان حالات کا سامنا کرتے جب آپﷺ اور حضرت ابو بکر صدیقؓ غارِ حرا کے اندر ،مشرکوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور وہ انہیں دیکھ سکتے تھے ،اگر وہ نیچے دیکھتے ،انسانی ردِ عمل یہ ہو گا کہ پیچے سے خروج کا راستہ تلاش کیا جائے یا باہر جانے کا کوئی دوسرا متبادل راستہ یا خاموش رہا جائے تاکہ کوئی ان کی آواز نہ سن سکے ، تاہم نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر صدیقؓ سےفرمایا :

غمزدہ نہ ہو، فکر مت کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔


إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو اللہ اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔ اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

سورۃ نمبر:9، التوبہ، آیت نمبر:40

یہ کسی دھوکہ باز یا دغا باز کی ذہنیت نہیں ایک نبی ﷺ کی سوچ ہے ۔جن کو پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی ، ان کی حفاظت فرمائیں گے۔


سورۃ المسد(سورۃ تبت)ابو لہب کی موت سے دس سال پہلے نازل کی گئی ، ابو لہب نبی کریمﷺکا چچا تھا ۔ابو لہب نے دس سال اس بیان میں گذارے کہ قرآن مجید غلط ہے۔ وہ ایمان نہیں لایا اور نہ ہی ایسا کرنے پر تیار تھا ۔نبی اکرم ﷺ کیسے اتنے زیادہ پر اعتماد ہو سکتے تھے جب تک ان کو یقین نہ ہوتا کہ قرآن مجید اللہ سبحان و تعالٰی کی طرف ہی سے ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کو ملاحظہ کیجئے:

تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ
یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

سورۃ نمبر:11، ھود ، آیت نمبر:49

میلر لکھتا ہے کہ کسی بھی مقدس کتاب نے اس قسم کا انداز نہیں اپنایا کہ جس میں پڑھنے والے کو ایک خبر دی جار رہی ہو اور پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نئی خبر(اطلاع) ہے ۔ یہ ایک بے نظیر (بےمثال ) چیلنج (للکار) ہے ۔ کیا اگر مکہ کے لوگ مکر و فریب سے یہ کہہ دیتے کہ وہ تو یہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتے تھے؟ کیا اگر کوئی اسکالر (عالم) یہ دریافت کرتا کہ یہ اطلاع(خبر) پہلے ہی سے جانی پہچانی تھی(افشا تھی) تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا۔


پروفیسر میلر کیتھولک انسائیکلو پیڈیا کے موجودہ عہد (زمانہ)کا ذکر کرتا ہے جو قرآن کے متعلق ہے۔ یہ واضع کرتا ہے کہ باوجود اتنے زیادہ مطالعہ ،نظریات اور قرآنی نزول کی صداقت پر حملوں کی کوشش اور بہت سے بہانے اور حجتیں جن کو منطقی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ گرجا گھر (چرچ) کو اپنے آپ میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ ان نظریات کو اپنا سکے اور ابھی تک اس نے مسلمانوں کے نظریہ کی سچائی اور حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ قرآن مجید میں کوئی شک نہیں اور یہ آخری آسمانی کتاب ہے۔

حقیقت میں پروفیسر میلر اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے اور اور صحیح راستہ چننے میں کافی حد تک صاف کو اور ایماندار تھا ۔اللہ اسے اور اس جیسے ان تمام لوگوں کو (جنہوں نے حق کو تلا ش کیا اور اپنے تعصب کو اجازت نہیں دی کہ انہیں حق تک پہنچنے سے دور رکھے)مزید ہدایت نصیب فرمائے اور حق کی روشن شاہراہ پر چل کر اپنی عاقبت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

حتمی رائے

1977میں پروفیسر میلر نے مسلمان اسکالر جناب احمد دیداتؒ سے ایک بہت مشہور مکالمہ،بحث و مباحثہ کیا اس کی منطق صاف تھی اور اس کا عذر (تائید) ایسے دکھائی دیتی تھی کہ جیسے وہ سچائی تک بغیر کسی تعصب کے پہنچنا چاہتا تھا بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائے۔

1978 میں پروفیسر میلر نے اسلام قبول کرہی لیا اور اپنے آپ کو عبد الاحد کے نام سے پکارا ۔ اس نے کچھ عرصہ سعودی عرب تیل اور معدنیات کی یورنیورسٹی میں کام کیا اور اپنی زندگی کو دعویٰ بذریعہ ٹیلی ویژین اور لیکچرز کے لئے وقف کر دیا۔

ڈاکٹر گیری میلر (Gary Miller)
ڈاکٹر گیری میلر کے اسلام پر لیکچر

Parmatma Novel by Aleem ul Haq Haqqi

parmatma aleem haq haqqi
Parmatma novel contains an adventurous moral social story of a rude man is authored by aleem ul haq haqqi in urdu language with the size of 25 mb in pdf good quality format.Visit the mentioned below mediafire link to download parmatma novel urdu pdf or read online free book

 
Or


Did you read another crime adventurous novel of this author.Use the following link to download or read online

Meer e Karwan By Aleem ul Haq Haqi

Sadiyon Ka Beta By Matloob Ahmed Waraich

sadiyon ka beta book
Sadiyon ka beta book contians the historic biography and life story of zulfiqar ali bhutto is authored by matloob ahmed waraich in urdu language with the size of 19 mb in pdf good quality format.Use the below given dropbox link to download saidyon ka beta urdu pdf or read online book free.

Qafas Novel By Ahsan Siddiqui

qafas ahsan siddiqui
Qafas novel contains a social true story of a woman named majida is authored by ahsan siddiquie in urdu language with the size of 21 mb in pdf high quality format.Use the below mentioned dropbox link to dwnload qafas pdf novel free or read online ehsan siddiqui book.


Or

از خوابِ گِراں خیز

Monday, March 17, 2014



 اے غنچۂ خوابیدہ چو نرگس نِگَراں خیز
کاشانۂ ما، رفت بتَاراجِ غماں، خیز
از نالۂ مرغِ چمن، از بانگِ اذاں خیز
از گرمیِ ہنگامۂ آتش نفَساں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

اے سوئے ہوئے غنچے، نرگس کی طرف دیکھتے ہوئے اٹھ، ہمارا گھر غموں اور مصیبتوں نے برباد کر دیا، اٹھ، چمن کے پرندے کی فریاد سے اٹھ، اذان کی آواز سے اٹھ، آگ بھرے سانس رکھنے والوں کی گرمی کے ہنگامہ سے اٹھ، (غفلت کی) گہری نیند، گہری نیند، (بہت) گہری نیند سے اٹھ۔

خورشید کہ پیرایہ بسیمائے سحر بست
آویزہ بگوشِ سحر از خونِ جگر بست
از دشت و جبَل قافلہ ہا، رختِ سفر بست
اے چشمِ جہاں بیں بہ تماشائے جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

سورج جس نے صبح کے زیور سے ماتھے کو سجھایا، اس نے صبح کے کانوں میں خونِ جگر سے بندہ لٹکایا، یعنی صبح ہو گئی، بیابانوں اور پہاڑوں سے قافلوں نے سفر کیلیے سامان باندھ لیا ہے، اے جہان کو دیکھنے والے آنکھ، تُو بھی جہان کے تماشا کیلیے اٹھ، یعنی تو بھی اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔

خاور ہمہ مانندِ غبارِ سرِ راہے است
یک نالۂ خاموش و اثر باختہ آہے است
ہر ذرّۂ ایں خاک گرہ خوردہ نگاہے است
از ہند و سمر قند و عراق و ہَمَداں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

مشرق (خاور) سب کا سب راستے کے غبار کی مانند ہے، وہ ایک ایسی فریاد ہے جو کہ خاموش ہے اور ایک ایسی آہ ہے جو بے اثر ہے، اور اس خاک کا ہر ذرہ ایک ایسی نگاہ ہے جس پر گرہ باندھ دی گئی ہے (نابینا ہے)، (اے مشرقیو) ہندوستان و سمرقند (وسطی ایشیا) و عراق (عرب) اور ہمدان(ایران، عجم) سے اٹھو، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند سے اٹھو۔

دریائے تو دریاست کہ آسودہ چو صحرا ست
دریائے تو دریاست کہ افزوں نہ شُد و کاست
بیگانۂ آشوب و نہنگ است، چہ دریاست؟
از سینۂ چاکش صِفَتِ موجِ رواں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو صحرا کی طرح پرسکون (بے آب) ہے، تیرا دریا ایک ایسا دریا ہے کہ جو بڑھا تو نہیں البتہ کم ضرور ہو گیا ہے، یہ تیرا دریا کیسا دریا ہے کہ وہ طوفانوں اور مگر مچھوں (کشمکشِ زندگی) سے بیگانہ ہے، اس دریا کے پھٹے ہوئے سینے سے تند اور رواں موجوں کی طرح اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔

ایں نکتہ کشائندۂ اسرارِ نہاں است
ملک است تنِ خاکی و دیں روحِ رواں است
تن زندہ و جاں زندہ ز ربطِ تن و جاں است
با خرقہ و سجّادہ و شمشیر و سناں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

یہ بات چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے والی ہے (غور سے سن)، تیرا خاکی جسم اگر ملک ہے تو دین اسکی جان اور روحِ رواں اور اس پر حکمراں ہے، جسم اور جان اگر زندہ ہیں تو وہ جسم اور جان کے ربط ہی سے زندہ ہیں، لہذا خرقہ و سجادہ و شمشیر و تلوار کے ساتھ (یعنی صوفی، زاہد اور سپاہی) اٹھ، گہری نیند، گہری نیند، بہت گہری نیند میں ڈوبے ہوئے اٹھ۔

ناموسِ ازَل را تو امینی، تو امینی
دارائے جہاں را تو یَساری تو یَمینی
اے بندۂ خاکی تو زمانی تو زمینی
صہبائے یقیں در کش و از دیرِ گماں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

ازل کی ناموس کا تو ہی امانت دار ہے، جہان کے رکھوالے کا تو ہی دایاں اور بایاں (خلیفہ) ہے، اے مٹی کے انسان تو ہی زمان ہے اور تو ہی مکان ہے (یعنی انکا حکمران ہے) تو یقین کے پیمانے سے شراب پی اور وہم و گمان و بے یقینی کے بتکدے سے اٹھ کھڑا ہو، گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو، بہت گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔

فریاد ز افرنگ و دل آویزیِ افرنگ
فریاد ز شیرینی و پرویزیِ افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزیِ افرنگ
معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز
از خوابِ گِراں خیز

فریاد ہے افرنگ سے اور اسکی دل آویزی سے، اسکی شیریں (حسن) اور پرویزی (مکاری) سے، کہ تمام عالم افرنگ کی چنگیزیت سے ویران اور تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ اے حرم کو تعمیر کرنے والے (مسلمان) تو ایک بار پھراس (تباہ و برباد) جہان کو تعمیر کرنے کیلیے اٹھ کھڑا ہو، (لیکن تُو تو خوابِ غفلت میں پڑا ہوا ہے) اٹھ، گہری نیند سے اٹھ، بہت گہری نیند سے اٹھ۔





Golden Cross Novel by Mazhar Kaleem M A

golden cross mazhar kaleem
Golden cross novel contains an adventurous thriller action novel of imran series is authored by mazhar kaleem m a in urdu language with the size of 4 mb in pdf high quality format.Use the following mediafire link to download mazhar kaleem urdu book golden cross novel pdf or read online free.




Did you read another spy action novel of this author.Visit the below given link to download or read online

Side Track Imran Series By Mazhar Kaleem M A

Side Track Novel By Mazhar Kaleem M A

side track mazhar kaleem
Side track novel contains a spy action adventurous story of ali imran and pakesia secret service is authored by mazhar kaleem in urdu language with the size of 5 mb in pdf high quality format.Use the following mediafire link to download side track imran series urdu novel pdf or read online free book.


Or


Did you read antoerh action thriller novel of this author.Visit the below link to download or read online

Blue Hawks By Mazhar Kaleem M A

Yaroshalam Ki Sahira Novel By Aslam Rahi M A

yaroshalam ki sahira
Yaroshalam ki sahira novel contains an adventurous islamic historic story of peoples who were awaited for the arrival of hazrat muhammad s.a.w is authored by aslam rahi m a in urdu language with the size of 7 mb in pdf high quality format.Use the below given mediafire link to download yaroshilam ki sahira urdu pdf novel or read online book free.



Did you read another islamic historic novel of this author.Visit the following link to download or read online

Be Sehar Raat Ke Musafir By Aslam Rahi

Kamran Aur Khufia Khazana Novel by Syed Muzaffar Hussain

kam aur khufia khazana
Kamran aur khufia khazana novel contains an adventurous mystery spy story of a hidden treasure is authored by syed muzaffar hussain in urdu language with the size of 8 mb in pdf high quality format.Use the mentioned below mediafire link to download kamran aur khufia khazana urdu novel or pdf book read online free.


Or

Dulhan Dil Aur Dilruba Novel By Agha Riaz Ahmed

dulhan dil aur dilruba
Dulhan dil aur dilruba novel contains 9 crime adventurous law and investigation stories is authored by retired dsp agha riaz ahmed in urdu language with the size of 3 mb in pdf high quality format.Visit the below mentioned mediafire link to download dulhan dil aur dilruba urdu novel or read online pdf book free.


Or

Seerat e Mustafa S.A.W By Muhammad Idress Kandhalvi

seerat e mustafa pdf
Seerat e mustafa s.a.w book contains the biography and life story of hazrat muhammad pbuh is authored by maulana muhammad idress sahab kandhalvi in urdu language with the size of 103 mb in complete part 1 part 2 pdf high quality format.Use the mentioned below mediafire single link to download seerat e mustafa urdu pdf book free.


Or

Aatish e Zar Novel By Mirza Amjad Baig Advocate

aatish e zar amjad baig
Aatish e zar novel contains 5 social crime adventure law and investigation urdu stories pas e naqab, youm e hissab, said o siyad, bad e mukhalif is authored by mirza amjad baig advocate in urdu language with the size of 5 mb in high pdf quality format.Use the mentioned mediafire link to download atish e zar pdf urdu novel or read book online free.


Or


Did you read another crime and law investigation book of this author.Visit the following link to download or read online

 Shab e Wisal By Mirza Amjad Baig Advocate

Muqaddas Phool Novel By Rider Haggard

muqaddas phool rider
Muqaddas phool novel contains an adventurous mystery story from africa is authored by rider haggard in urdu language with the size of 6 mb in pdf high quality format.Visit the given below mediafire link to download urdu muqaddas pdf novel or read online free book.


Or


Did you read another adventurous african novel of this author.Use the following link to read online or download book

Neel Ki Sahira By Rider Haggard

Bazigar Novel By Muhammad Azam Khan

bazigar muhammad azam khan
Bazigar novel contains an adventurous crime social reforming story is authored by muhammad azam khan in urdu language with the size of 3 mb in pdf high quality format.Use the below given mediafire link to download or read online urdu novel bazigar pdf book free.


Or

Khizan Ki Barish Complete Novel By A Hameed

khizan ki barsih
Khizan ki barish contains 3 social romantic adventurous crime stories sonagachi ki ratain, badal dacait, dulhan ka farar is authored by a hameed in urdu language with the size of 34 mb in complete part 1,2,3 pdf high quality format.Visit the mentioned mediafire single link to download khizan ki barish urdu novel or read online free pdf book.


Or


Did you read another Mysterious thriller novel of this author.Use the following link to download or read

Ahram Kay Devta By A Hameed

جدید مسلمان! سیکولرزم کے داعیوں کی الجھن

Sunday, March 16, 2014

ہمارے معاشرے کا مولوی...!
یعنی ایسا شخص جو حقوق العباد کو نظر اندازکر کے حقوق اللہ پر زیادہ زور دیتا ہے!
جس کا کل مطمح نظر مذہبی مظاہر اور رسومات ہیں!
جو دین کے معاملے میں ذرا بھی اختلاف رائے برداشت نہیں کرتا۔ دین پر عمل کرنے کے معاملے میں رخصت کی اجازت نہیں دیتا۔!
جو صرف اپنے مسلک کو ہی حق سمجھتا ہے!
انتہائی غصہ ور!
جو مسئلے کا حل دینے کے بجائے صرف فتوے دیتا ہے!
جو دین کے نظریاتی اور انٹلکچول پہلو سے نابلد ہے اور صرف فقہی پہلو سے واقف ہے۔
بہت بڑی داڑھی والا!
عالمی حالات اور عالم اسلام سے ناوقف۔ وقت کے تقاضوں سے آزاد!
دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے والا۔بے عمل مبلغ!
وغیرہ وغیر...!!!
صحیح یا غلط طور پر ہمارے معاشرے میں یہی مولوی کی تصویر بنادی گئی ہے۔اس تصویر نے دیسی سیکولروں کی بہت ساری مشکلیں آسان کردی ہیں۔ مولوی دین کی کچھ بھی بات کر لے چاہے وہ بات کتنی ہی معقول ہوصرف ایک "مولوی" کا طعنہ دے کر پورے محفل لوٹی جاسکتی ہے۔
لیکن سیکولر اور ملحد طبقے کا ایک بہت بڑا مسئلہ وہ پڑھے لکھے دین دار نوجوان ہیں جو پورے شعور کے ساتھ، نہ صرف دین کو بلکہ دین کے خلاف تمام مقدمات کو سمجھتے ہوئے بڑے ہی ناموافق حالات میں اسلام پر ڈٹے ہوئے ہیں بلکہ الحاد و سیکولرزم کے خلاف نظریاتی محاذ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ اسلام کا نظریاتی اور فکری مقدمہ مضبوط ہی ہورہا ہے۔اس کی بنیادی وجہ ایک طرف ہمارے کچھ علماء ومحققین کی تحقیق ہے تو دوسری اہم ترین وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی نظریات کی منطقی بنیاد انتہائی بودی ہے۔ مغرب نے ایک غلط عقیدہ یعنی مسیحیت کا مقابلہ کر کے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا تھا کہ اس نے تمام مذاہب کو شکست دی ہے۔ لیکن ایسے مسلمان جو مغربی فکر سے مرعوب نہیں ہیں جب انہیں مغربی نظریات کو معروضی انداز میں پرکھتے ہیں تو اندر سے لغو قسم کے دعوے ہی نکلتے ہیں۔دوسری طرف دیسی سیکولر ان مغربی نظریات کی خالص علمی نمائندگی کرنے کےبجائے صرف اس علمی مرعوبیت کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی علمیت سے وہ قطعی نابلد ہیں۔ ان دیسی سیکولروں کا پورا مقدمہ اور فکر در اصل اس مولویت کے خلاف ہوتی جس کے صفات پیچھے بیان کی گئیں۔
ان کی منافقت کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ جیسے ہی کسی باشعور مسلمان سے ان کو پالا پڑتا ہے تو اس شعور کا فکری مقابلہ کرنے کے بجائے فوراً مولویت کی دہائی دینا شروع کردیتے ہیں۔
اول تو مولوی کی جو صفات مانی یا منوائی جاتی ہیں وہ غلط پروپیگنڈا ہے۔ لیکن اس مولویت کے سانچے کے باہر جیسے ہی انہیں دین نظر آتا ہے، اس کو سمجھنے، قبول کرنے، یا مقابلہ کرنے کے بجائے فوراً مولویت کی طعنہ دے کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو نظریاتی شکست دے دی۔
انہیں اندھا ایمان اس لئے پسند ہے کیونکہ وہ سیکولرزم پر اپنے اندھے ایمان سے مسلمانوں کے اندھے ایمان کا مقابلہ کرنے میں ایک گونہ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ ہاں کسی باشعور مسلمان کو دیکھتے ہی ان کی سٹی گم ہوجاتی ہے، کیوں کہ سیکولرزم پر ان کا ایمان کسی شعور کے بجائے مرعوبیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب انہیں کون سمجھائے کہ اسلام انکی اپنی مزعومہ مولویت سے بہت آگے جاچکا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مولویت کے ساتھ غلط یا صحیح طریقے سے جو جمود اور فرسودگی منسوب کی جاتی ہے اس کے شکار وہ خود سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔اندھی تقلید جو کہ مولویت کا خاصہ سمجھا جاتا ہے وہ انہیں دیسی سیکولروں کا خاصہ ہے۔ان کے نزدیک مغرب کے چند عقائد مکمل طور پر ثابت شدہ ہیں اور جیسے ہی ان کو چیلنج کیا جاتا ہے وہ مولویت کی دہائی دے کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ ان کا یہ انداز ایسے ہی بے شعور دیندا ر کا سا کہ جب دین کے کسی معاملے میں سوال اُٹھایا جاتا ہے تو وہ اس کا منطقی جواب دینے کے بجائے الحاد کا فتوی داغ دیتا ہے۔


 
ابوزید
 

Share This Book

 

Most Reading

Available Books

Blogroll